چنتامنی:28 /فروری(محمد اسلم؍ایس او نیوز)حال ہی میں ہوئے وکلاء اسوسی ایشن کے انتخابات میں چند ایڈوکیٹس جعلی ووٹوں کو استعمال کرکہ وکلاء اسوسی ایشن کے صدر حیثیت منجوناتھ ریڈی کو منتخب کئے ہے ایڈوکیٹ ہی قانون کو ہاتھ لیکر غلط استعمال کرکہ منجوناتھ ریڈی کو صدر منتخب کئے ہیں ان کو اپنے صدر کے عہدہ سے فوراََ استعفیٰ دے دینا چاہئے اس طرح کا الزام سنیئر ایڈوکیٹ راجہ رام نے لگائی ۔
آج یہاں کے پترا کرترا بھون میں منعقد آخباری کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اگر ایڈوکیٹس ہی قانون کا غلط استعمال کرنے لگیں تو عوام کا کیا حال ہوگا قانون کی جانکاری عوام کو معلومات کرانے والے ایڈوکیٹس ہی قانون کو ہاتھ میں لیں گے توعوام کو ایڈوکیٹس پر جو اعتماد ہے وہ ختم ہوجائے گا ۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء اسوسی ایشن کے انتخابا ت میں چند ایسے ایڈوکیٹس کو طلب کرکہ ووٹ ڈالیا گیا ہے جن ایڈوکیٹس کا ووٹ دوسرے تعلقہ جات میں بھی ہے ایڈوکیٹ راجہ رام نے کہا کہ وکالت ایک پیشہ نہیں بلکہ سماجی خدمت اور سماجی ذمہ داری ہے جس کو انگریزی زبان نوبل پروفیشن کہا گیا ہے ایک عام آدمی چاہئے کسی بھی شعبے میں خدمات انجام دے رہا ہو اسکی خدمات میں جب تک خلوص اور جذبہ پنہا ں نہیں ہوگا تب تک وہ کامیاب نہیں کہلائے گا اور ظاہر سی بات ہے کہ اپنے پیشے سے محبت رکھنے والا ہی کامیابی کی بلندیوں کو چھوپاتا ہے ۔
انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح ایک سکے کے دورخ ہوتے ہیں اسی طرح عدالت اور وکالت سکے کے دور خ ہیں ایڈوکیٹس کو چاہئے کہ وہ وکالت کا پیشہ سمجھ کر نہیں بلکہ خدمت سمجھ کر انجام دیں ۔انہوں نے اور کہا کہ مہاتماگاندھی جواہر لعل اور ریاست کے وزیر اعلیٰ پیشے کے اعتبار سے وکیل رہے تھے آج انہوں نے اعلیٰ مقام حاصل کیا ہے تو اسکی اصل وجہ ان کی سماجی خدمات ہیں بے شک آج وکالت کے پیشے کو کافی بری نظروں سے دیکھاجاتا ہے اس کی اصل وجہ خود ایڈوکیٹ ہیں انہیں چاہئے کہ وہ کسی بھی قسم کے کیس کو لینے سے قبل متاثرہ افراد کی صحیح رہنمائی کریں ۔
انہوں نے اور کہا وکلاء اسوسی ایشن کے انتخابات میں 163ایڈوکیٹس ووٹ کا استعمال کئے ہیں ان میں 10تا 15ایڈوکیٹس جعلی ووٹ کا استعمال کئے ہیں اس کے متعلق میں نے خود اسوسی ایشن کے صدر سے انتخابات کی تفصیل مانگی تھی لیکن وہ تفصیل گُم ہوجانے کا بہانا بناکر اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں لگیں ہوئے ۔اس موقع پر ایڈوکیٹ سی۔ایس۔انور خان ایڈوکیٹ دیوراج وغیرہ موجود رہے ۔